صدقہ اے یار کیوں نہیں دیتے
اپنا دیدار کیوں نہیں دیتے
تم مجھے چھوڑ کیوں رہے ہو اب؟
تم مجھے مار کیوں نہیں دیتے
جا رہے ہو تو کچھ تحائف دو
رنج آزار کیوں نہیں دیتے
گھڑی دیتے ہو مجھ کو تحفے میں
وقت سرکار کیوں نہیں دیتے
مجھ کو غم ہی دیا خدائے جہاں
مجھ کو غم خوار کیوں نہیں دیتے
بس ثمر مشورہ ہی دیتے ہیں
ساتھ اب یار کیوں نہیں دیتے
۔۔۔۔۔
تیرے دل سے فرار چاہتا ہوں
دلربا! میں قرار چاہتا ہوں
تیرے پہلو میں جو گنوا دوں میں
چند لمحے ادھار چاہتا ہوں
غصے میں اور بھی حسین لگو
میں بھی تم سا خمار چاہتا ہوں
جستجو حوروں کی نہیں ہے مجھے
میں تو تجھ کو ہی یار چاہتا ہوں
قصۂ عشق ہو طویل ثمر
باقی سب اختصار چاہتا ہوں
